ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / منگلورومیں ڈاکٹر ذاکرنائک کے حق میں زبردست احتجاج :ملکی سالمیت کے لئے خطرہ بننے والے تمام بھاشنوں کی جانچ کا مطالبہ

منگلورومیں ڈاکٹر ذاکرنائک کے حق میں زبردست احتجاج :ملکی سالمیت کے لئے خطرہ بننے والے تمام بھاشنوں کی جانچ کا مطالبہ

Sat, 16 Jul 2016 21:12:51    S.O. News Service

منگلورو:16/ جولائی(ایس او نیوز) ملک کی تفتیشی ایجنسیاں دین اسلام کے عالمی مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائک کے بیانات کی جس طرح جانچ کررہی ہیں  بالکل اسی طرح ملک کی سالمیت کو خطرہ بننے والی  ملک غداری  اور فرقہ وارانہ فسادات کو اکسانے والی جیسی تمام تقاریر و بیانات کی بھی شفافیت کے ساتھ  جانچ کی جائے۔ اس بات کا مطالبہ جماعت اسلامی ہند منگلورو کے صدر محمد کوئیں نے کیا

وہ یہاں ڈاکٹر ذاکر نائک کے خلاف جاری بے بنیاد  اور بے تکے الزامات کے خلاف دکشن کنڑا ضلع مسلم متحدہ محاذ کی قیادت میں ڈی سی دفتر کے روبرو منعقدہ زبردست احتجاج میں بطور مہمان خصوصی خطاب فرما رہے تھے۔ محمد کوئیں نے اپنے خطاب میں کہا کہ بنگلہ دیش کے ڈھاکہ میں ہوئے بم دھماکہ کرنے والے دہشت گرد ، ذاکر نائک سے ترغیب پانے کا الزام ذاکرنائک کے خلاف لگاتے ہی ملک کی تفتیشی ایجنسیاں ان کے بیانات کی جانچ شروع کی ہے، ذاکر نائک کو دہشت گرد قراردینے ، انہیں جیل بھیجنے والی ایسی کوئی بات اور نکات ان کے بیانات میں نہیں ہونے کی وضاحت تفتیشی ایجنسیوں کی رپورٹ سے معلوم ہوتی ہے۔ لیکن ذاکر نائک کے خلاف ایک الزام لگتے ہی ملکی میڈیا انہیں بالکل دہشت گرد کی طرح اور ان کی طرف سے دئیے جانے والے دینی پیغامات کو ایک دہشت گردانہ اصول کی طرح نشر کرنے کی کوشش کرنا قابل مذمت ہے۔ محمد کوئیں نے ذاکر نائک کے بیانات کی جانچ کا استقبال کرتے ہوئے سوال کیا کہ صرف ڈاکٹر ذاکر نائک کے بیان کی ہی جانچ کیوں کی گئی، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک غداری، ملکی تحفظ اور اس کی سالمیت کے لئے خطرہ بننے والے جتنے بھی بیانات اور تقاریرجن جن لوگوں نے کی ہیں، اُن سب کی بھی جانچ کی جائے۔۔ اسی طرح دیگر مذاہب کی نمائندگی کرنے والے لیڈران اور دیگر دھرم مبلغوں کے اشتعال انگیز بھاشنوں کی بھی جانچ کرنے انہوں نے پرزور مطالبہ کیا۔

محمد کنہی نے اپنے پرزور خطاب میںاتراکھنڈا کے رورل کیلا میں سادھوی پراچی نامی سنیاسنی کے تعلق سے بتایا کہ انہوں نے ’’ ہم مسلم مکت بھارت بنائیں گے ‘‘ جیسی اشتعال انگیز تقریر کی تھی، اسی طرح یوگ گرو کے بھاشن "اگر قانون نہیں ہوتا توبھار ت ماتا کی جئے نہ بولنے والےکا سر کاٹ دینے " کا حکم جاری کیا تھا، جبکہ اُترکنڑا رکن پارلیمان آننت کمار ہیگڈے نے بیان دیا تھا کہ اسلام کو برباد کرنے کے بعد ہی دنیا میں امن قائم ہونا ممکن ہے۔ محمد کنہی نے مطالبہ کیا کہ ان سب بھاشنوں اور بیانات کی بھی جانچ کی جائے۔ انہوں نےناتھو رام گوڈسے کو شہید کہنے والے ساکشی مہاراج کے بھاشنوں کی بھی جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب صرف مسلمانوں یا اسلام کے لئے ہی خطرہ نہیں ہیں بلکہ یہ تمام ملکی دستور، قانون، سکیورٹی اور سالمیت کے لئے بھی خطرہ ہیں۔ اسی لئے ان سب کے بھاشنوں کی جانچ کرتے ہوئے ان سب کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

 انہوں نے میڈیا سےسوال کیا کہ میڈیا والوں نے ابھی تک کسی بھی راکشش کو ایک دھرم کے مقلد نہیں کہا ہے تو پھرمیڈیا والے  آئسس کو اسلامی دہشت گرد کے طورپر کیوں پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے میڈیا والوں سے اپیل کی کہ جس طرح آپ لوگ راکشش کے لئے دھرم نہیں جوڑتے اسی طرح آئسس کو بھی دھرم کی بنیادپر نہ دیکھیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں بہت زوردار لہجہ میں کہاکہ اسلام کبھی اور کسی حال میں بھی دہشت گردی کی حمایت نہیں کرتا۔

پی ایف آئی کے ریاستی سکریٹری شافع بلارے نے احتجاجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مبلغ اسلام کو مرکز مان کر ان کے خلاف سرکار اور کچھ میڈیا ہاؤس کی طرف سے جاری بےبنیاد الزامات کا تسلسل اصل میں مذہبی آزادی کو چھین لینے کی بہت بڑی سازش ہے۔ ملکی دستور، سکیولزم ، بھائی چارگی ، یک جہتی اور امن و سکون کے مخالفین عوامی ذہنوں میں نفرت پیدا کرنے کا کام کررہے ہیں، وہ اس کے ذریعے ملکی دستور کو کمزور کرنا چاہتے ہیں، ملک سنگین حالات کی طرف گامزن ہے، میڈیا عوامی دلوں کو جوڑنےکے بجائے توڑنے کا کام کررہاہے۔ انہوں نے ملکی عوام اور فاشسٹ مخالف طاقتوں کے خلاف متحد ہونےکی اپیل کی۔

دکشن کنڑا مسلم کمیٹی کے نائب صدر حاجی حمید خندق نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ڈاکٹر ذاکر نائک کو گرفتار کرنے کے پیچھے مسلمانوں میں خوف وہراس پیدا کرکے انہیں ڈرانے کی چال ہے،انہوں نے کہا کہ  وزیر اعظم مودی اپنے اختیارات کا غلط استعمال کررہے ہیں ۔ انہوں نے مرکزی حکومت متنبہ کیا کہ وہ یہ بات جان لے کہ اگر ایک ذاکر نائک کو گرفتار کریں گے تو اس امت میں کئی ذاکر نائک پیدا ہوں گے۔ احتجاجی جلسہ سے  ساؤتھ کرناٹکا سلفی مومنٹ کے اسماعیل شافعی، جمیعۃ الفلاح کے حاجی عبدالطیف ، یونیف کے رفیع الدین کدرولی ، دکشن کنڑا ضلع ایس ڈی پی آئی لیڈر حنیف خان کوڑاجے، مسلم متحدہ محاذ کے اشرف کے ، مسلم ائیکتا ویدیکے کے مصطفیٰ کیمپی، منگلورو سنٹرل کمیٹی کے عزیز کدرولی، ٹالینٹ ریسرچ فاؤنڈیشن کے رفیق ماسٹر، مسلم لیکھ کر سنگھ کے عمر یوایچ، آل انڈیا امام کونسل کرناٹکا کے جنرل سکریٹری جعفر صادق فیضی ، ہدایہ فاؤنڈیشن کے صدر زکریاوغیرہ موجود تھے۔ دکشن کنڑا ضلع متحدہ محاذ کے سنچالک عطاء اللہ جوکٹے نے استقبال کیا۔ ایس آئی اؤ کے دکشن کنڑاضلع کے سکریٹری اسلم پانجال نے شکریہ اداکیا۔ اشرف اے کے ، توفیق، زاہد نے نظامت کے فرائض انجام دئیے۔


Share: